اگر جواب معلوم نہ ہو تو سوال گستاخی ہے اور اگر جواب معلوم ہو تو سوال بے باکی ہے۔ بے باکی میں تعلق قائم رہتا ہے اور گستاخی میں تعلق ختم ہو جاتا ہے۔
اگر ہم ذہن سے سوچیں تو سوال ہی سوال ہیں اور اگر دِل سے محسوس کریں تو جواب ہی جواب۔
اگر ہم اُس کے ہیں، تو وہ ہمارا ہے—جواب ہی جواب۔ اگر ہم صرف اپنے لیے ہیں، تو ہم پر عذاب ہے، علم کا عذاب، ذہن کا عذاب—سوال ہی سوال!!
سوال دراصل ذہن کا نام ہے اور جواب دِل کا نام۔ ماننے والا جاننے کے لیے بےتاب نہیں ہوتا اور جاننے کا متمنّی ماننے سے گریز کرتا ہے۔
شک سوال پیدا کرتا ہے اور یقین جواب مہیا کرتا ہے۔ شک یقین کی کمی کا نام ہے اور یقین شک کی نفی کا نام۔ یقین،ایمان ہی کا درجہ ہے۔