زندگی کو جہادِ مسلسل کہنے اور اسے جدّ و جہد گرداننے والوں نے نہ جانے اسے کیا کیا بنا دیا۔  ہر ایک سے اُلجھنا، ہر مقام پر لڑنا، ہر بات پر بحث، ہر اَمر پر تبصرہ، ہر انسان سے دست و ”گریبانیاں “،  ہر موضوعِ سخن پر لن ترانیاں، ہر شے کو مشکوک نگاہوں سے دیکھنا، ہر ایک کو نیچا دکھانے کے لیے کوشاں رہنا، ہر مقام اور صاحب ِ مقام کی خامی بلکہ خامیاں تلاش کرنا، ہر نظام پر برہم ہونا،  نکلتے سورج سے خائف رہنا، ڈوبنے والے ستاروں سے نالاں رہنا،  صاحب ِحیثیت کو صاحب ِ استحصال کہنا،  غریب کو بزدلی اور بے غیرتی کے طعنے دینا، اپنے ماں باپ سے ناراض، اپنی اولاد سے شاکی، اپنے وجود سے بیزار، دوسروں سے برسرِ پیکار، زندگی کو تیشہ ٔ جاں اور حالات کو سنگِ گراں کہتے رہنا، خود کو ناقابلِ فہم کربِ مستقل میں مبتلا پانا، ہر طرف ظلم،  استحصال دیکھنا، ہر جہاز کو پانی کی تہہ میں اُترتے دیکھنا،  ہر سفر کو مجبوری،  ہر واقعے کو حادثہ کہنا، محبّت کرنے والوں کو احمق سمجھنا،  اپنی خود ساختہ دانائی کے قطب مینار سے زمین پر رینگنے والے ”کیڑے مکوڑوں“ کو تمسخر سے دیکھنا،  کاوشِ پیہم کا راگ الاپنا،  غرض یہ کہ ہمہ حال بد حال رہنا ہی ایسے لوگوں کا مزاج بن کر رہ جاتا ہے۔

زندگی کو احمقانہ جھگڑالو پن سے علیحدہ کر کے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ یہ نعمت ایک احسان ہے، ایک تحفہ ہے، ایک مسکراتا ہوا پھول ہے — خوشبو اور رنگوں کا امتزاج! زندگی رواں دواں ایک پاکیزہ دریا ہے جو کناروں کو سیراب کرتا ہوا چلتا رہتا ہے۔  فیض ہی فیض —  تعاون ہی تعاون،  برکت ہی برکت — !!

انسان کو کیا ہو گیا ہے۔  انسان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔  اس مسیحا کو کیا عارضہ لاحق ہے۔  اس معالج کو کیا روگ لگ گیا ہے،  اس اشرف نے ہر شرف برباد کر دیا ہے۔

ہمیشہ رہنے کی خواہش نے زندگی کو عذاب بنادیا ہے۔  انسان زندہ رہنے کے لیے مرتا جا رہا ہے، سسکتا جا رہاہے۔  ہر شے کو ڈراتے ڈراتے خود ہی سہم گیا ہے۔ انسان کے اندر موہوم خطرات کے الارم بج رہے ہیں،  صحت بیماری کی زد میں ہے،  بیماری ڈاکٹر کے عذاب میں ہے۔  مسافر راہزن سے لرزاں ہے۔  اچانک کسی انہونی کے ہونے کا اندیشہ کھائے چلا جا رہا ہے۔

آج کے انسان کا یقین متزلزل ہے۔  اس کا ایمان ختم ہو چکا ہے۔ وہ بھوکا ہے مال کا،  اسے ڈر ہے غریب ہونے کا،  اس لیے اسے نفرت ہے ماضی سے، حال سے، مستقبل سے !اسے مقابلے کی دعوت ہے۔  اسے مقابلے کی تعلیم دی گئی ہے۔  اسے مقابلے کی اہمیت سکھائی گئی ہے اور اِسی تعلیم میں اِس کی صفاتِ عالیہ ختم ہو گئی ہیں۔

Pages: 1 2 3 4 5 6