اگر اِنسان کی اپنی عقل اُس کی اپنی زندگی کو خوشگوار نہ بنا سکے، تو اُسے زعمِ آگہی سے توبہ کرنی چاہیے۔
اگر اپنا گھر اپنے سکون کا باعث نہ ہو، تو توبہ کاوقت ہے۔
اگر اِنسان کو اپنا حال اور حالات درست کرنے کا شعور نہ ہو، تو اسے دانش ور کہلانے سے توبہ کرنی چاہیے۔
اگر مستقبل کا خیال ماضی کی یاد سے پریشان ہو، تو توبہ کر لینا ہی مناسب ہے۔
اگر اِنسان کو تلاش کے باوجود ہمیشہ غلط ر ہبریا رہنما ملیں تو اُسے اپنی اِطاعت شعاری کے دعویٰ سے توبہ کرنی چاہیے۔