بہرحال توبہ اپنی پسند اور نا پسند کے حوالے سے نہیں،یہ اللہ کی پسند اور نا پسند کے حوالے سے ہے۔ ہم اُس شے سے توبہ کرتے ہیں  جو ہمارے عمل میں اللہ کی ناپسند کا باعث ہو۔  اِس میں بُرائی بھی شامل ہو سکتی ہے اور وہ عبادت بھی جسے ریا کاری کہا جاتا ہے، اور وہ منافقت بھی جسے فیشن کے طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔ ہمارا ہر وہ عمل جو اللہ کو ناپسند ہو،   گناہ ہے اور ایسےہر عمل سے توبہ کرنا ہی عذاب سے بچنے کا ذریعہ ہے۔

اللہ اور انسان کے مزاج میں بڑا فرق ہے۔ خالق اور مخلوق کے درجات کے علاوہ بھی فرق ہے۔ اگر تھوڑی دیر کے لیے کسی مُلّاکو دنیا کی خدائی دے دی جائے تو وہ اِس دُنیا میں کیا کیا تبدیلیاں کر دے گا۔ کافروں کو نیست و نابود کر دے گا، یہودیوں کو   فی النّار کر دے گا، غیر اِسلامی معاشروں کو تباہ کر دے گا، غرضیکہ اِس دنیا کو اپنے جیسا مسلمان کر دے گا۔

یہ انسان کی خدائی ہو گی۔ اللہ کی خدائی وہ ہے،جو ہے۔ اللہ کے ہاں پسندیدہ دِین اِسلام ہی ہے لیکن کافروں کو پیدا کرنا،اُنہیں طاقت اور قوّت دیتے رہنا،مسلمانوں کی جو حالت ہے اُسے خاموشی سے دیکھتے رہنا ،اللہ ہی کا کام ہے۔ اِنسان اور خدا کے عمل میں جو فرق ہے   اُس پر غور کرنا چاہیے۔ ہماری جو مرضی اللہ کے علاوہ ہے،غلطی ہو سکتی ہے اور اِس غلطی سے توبہ کرنا  لازم ہے۔ ہم اپنے لیے ایک زندگی چاہتے ہیں ،ایک انداز کی زندگی۔ اللہ ہمارے لیے ایک زندگی چاہتا ہے،ایک اور انداز کی زندگی۔ اگر اِن دونوں میں فرق ہے تو غلطی موجود ہے۔ اللہ کی پسند کے علاوہ کسی انداز کی زندگی کو پسند کرنا گناہ ہے۔ اِس سے توبہ کرنا ضروری ہے۔

پیغمبر خطا سے معصوم ہوتا ہے۔ کسی پیغمبر کا استغفار پڑھنا عجب ہے۔ نئے مقامات حاصل ہونے پر پُرانے مقامات پر استغفار ہے۔ عروج کی منزل استغفار اور الحمد کی منزل ہے۔ نئی بلندی کا شکر —  اور پہلے درجے پر استغفار۔ مطلب یہ ہوا کہ ایک مکمل نیک اور وحیِ الٰہی کے مطابق چلنے والی زِندگی کے لیے بھی استغفار کا عمل منشائے الٰہی کے عین مطابق ہے۔ توبہ اللہ کی رضا کا حصول ہے۔

بار بار غلطی کرنے اور بار بار توبہ کرنے کے بارے میں اکثر پوچھا جاتا ہے۔ اگر انسان کو گناہ سے شرمندگی نہیں تو توبہ سے کیا شرمندگی۔ توبہ کا عمل ترک نہ ہونا چاہیے۔ اگر انسان کو موت آ جائے  تو اُسے حالتِ گناہ میں نہ آئے بلکہ حالتِ توبہ میں آئے،اور کچھ خبر نہیں کہ موت کس وقت آجائے۔

Pages: 1 2 3 4 5 6 7