گناہ کا احساس پیدا ہو جائے تو گناہ سے نفرت ضرور پیدا ہو گی، نفرت ہو جائے تو دوبارہ گناہ نہ کرنے کا عزم پیدا ہو گا۔ دوبارہ گناہ نہ کرنے کا اِرادہ ہی توبہ ہے۔ اللہ کو گواہ بنا کر اپنی غلطی پر معذرت اور آئندہ ایسی غلطی نہ کرنے کا وعدہ توبہ کہلاتا ہے۔
توبہ منظور ہو جائے تو وہ گناہ دوبارہ سرزد نہیں ہوتا۔ جب گناہ معاف ہو جائے تو گناہ کی یاد بھی نہیں رہتی۔اگر اللہ اِحسان فرما دے تو اِنسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں داخل کر دیا جاتا ہے،اُس کی سابقہ بُرائیوں کو اچھائیوں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ اللہ توبہ کرنے والوں پر بڑا مہربان ہوتا ہے۔ آدم ؑ نے توبہ کی،اُنہیں خلافتِ ارضی کا تاج پہنا دیا گیا۔ یونسؑ نے توبہ کی،اُنہیں نجات ملی۔ ہر توبہ کرنے والے کو اللہ نے اپنا قرب عطا فرمایا۔ شرط صرف یہ ہے کہ توبہ صدقِ دل سے کی جائے اور اپنے آپ کو اُس راستے سے الگ کر دیا جائے جس راستے پر غلطی کے دوبارہ ہونے کا اِمکان ہو۔
توبہ کرنے والے کی زندگی تبدیل ہو جاتی ہے۔ اللہ سے توفیق مانگنی چاہیے کہ توبہ سلامت رہے۔ توبہ شکن اِنسان کہیں کانہیں رہتا۔ وہ اپنی نظروں سے گر جاتا ہے۔ وہ احترام کے تصوّر سے محروم ہو جاتا ہے۔ وہ دُعا سے محروم ہو جاتا ہے۔ وہ عبادت کی افادیّت سے محروم ہو جاتا ہے۔
گناہوں میں سب سے بڑا گناہ توبہ شکنی ہے۔ توبہ شکنی اِنسان کی شخصیت کو اندر سے توڑ پھوڑ دیتی ہے۔ اُس کا ظاہری وجود بے خراش ہو، تب بھی اندر کا وجود قاش قاش ہو جاتا ہے۔
دراصل گناہ بالعموم اِنسان کو نقصان پہنچانے والاعمل ہوتا ہے۔ انسان نہیں سمجھتا۔ خالق نے جس عمل سے روکا ہے اُس سے رُک جانا ہی سعادت کا ذریعہ ہے۔