اپنے گناہوں کا اِحساس ہی توبہ کی ابتدا ہے۔ اگر گناہ کا کوئی گواہ نہ ہو تو توبہ تنہائی میں ہونی چاہیے اور اگر گناہ پوری قوم کے سامنے سر زد ہوا ہو تو   توبہ بھی پوری قوم کے سامنے ہونی چاہیے۔

در اصل توبہ کا خیال خوش بختی کی علامت ہے۔ جو اپنے گناہ کو گناہ نہ سمجھے،وہ بدقسمت ہے۔ شیطان کو اپنی غلطی پر توبہ کا خیال نہ آیا،ہمیشہ کے لیے لعین و رجیم ہو گیا۔ اِنسان حکم عدولیوں پر توبہ کرتا رہتا ہےاِس لیے اشرف المخلوقات ہے۔ کافر اپنے کُفر کو دِین سمجھتا ہے،اپنی عبرت کو پہنچے گا۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اپنے ضمیر اور اپنے مزاج کے خلاف عمل کرنا گناہ ہے۔ ایسا ہر گز نہیں۔ گناہ اپنے مزاج کے خلاف عمل  کا نام نہیں،اللہ کے حکم کے خلاف عمل کا نام ہے۔

 گناہ اخلاقیات کے حوالے سے نہیں،دِین کے حوالے سے ہے۔ اخلاقیات کا دِین اور ہے،دِین کی اخلاقیات اور! سچ بولنا اخلاقی فریضہ بھی ہے اور دِینی بھی، لیکن دِین نے ایسی صداقتیں بھی بیان کی ہیں جو اخلاقی صداقتوں سے بہت مختلف اور ماوراء ہیں۔ اللہ، فرشتے، رسول، مابعد اور رُوح ایسی صداقتیں ہیں جنہیں اخلاقیات سمجھنے سے قاصر ہے۔ اخلاقیات اِنسانوں کے بنائے ہوئے
ضابطۂ  حیات کا نام ہے اور دِین اللہ کے عطا کیے ہوئے ضابطۂ حیات کا نام ہے۔ گناہ  اللہ کے فرمان سے اِنکار کا نام ہے۔

ایک پیغمبر اور اخلاقی مفکر میں فرق یہی ہے کہ پیغمبر ایک اور دُنیا کی صداقت بھی بیان کرتا ہے، جب کہ مفکر اِسی دُنیا اور اِسی معاشرے کی اِصلاح کی بات کرتا ہے۔ اخلاقیات دِین کا حصہ ہے، لیکن دینیات اخلاقیات سے بہت بلند ہے۔ یوں کہہ سکتے ہیں کہ دینیات اخلاقیات اور اِلہٰیات کے مجموعے کا نام ہے۔

Pages: 1 2 3 4 5 6 7