اگر اِنسان اپنے آپ کو غم، پریشانی، غریبی،غریب الوطنی یا موت سے نہ بچا سکے، تو اُسے اپنے خود مختار ہونے کے بیان سے توبہ کرنی چاہیے۔
اگر اِنسان ایک ہی پتھر سے دو دفعہ ٹھوکر کھائے تو اُسے اپنی صحیح روی کی ضد سے توبہ کرنی چاہیے۔
اگر اِنسان اپنی جوانی اور رُوپ سے پریشان ہو، تو اُسے اپنے بناؤ سنگھار سے توبہ
کرنی چاہیے۔
اگر انسان میں اپنی کامیابی کا سُرور ختم ہو جائے اور اِنسان کویاد آجائے کہ کامیاب ہونے کے لیے اُس نے کتنے جھوٹ بولے، تو اُسے ضرور توبہ کر لینی چاہیے۔
اگر اِنسان کو اپنے خطا کار یا گنہگار ہونے کا احساس ہو جائے، تو اُسے جان لینا چاہیے کہ توبہ کا وقت آگیا ہے۔