اَدب کی دُنیا میں اگر مصنّف ایسی کتاب تحریر کرے جس کے قاری میں گناہ کی رغبت یا میلان پیدا ہو جائے تو ایسی تخلیق گناہ ہی کہلائے گی۔ ایسے گناہ سے توبہ کرنا لازم ہے۔ مصنّف کاعمل تصنیف ہے اور یہ عمل خیر یا شر کے باب میں اپنا انجام ضرور دیکھے گا۔ گناہوں پر اُکسانے والے کا انجام گنہگار کے انجام سے بھی زیادہ خطرناک ہو گا۔ نیکی پر گامزن کرنے کا عمل نیک اعمال میں سب سے زیادہ مستحسن عمل ہے۔ ادیب مر جاتا ہے،ادب زندہ رہتا ہے اور ادب اپنی تاثیر پیدا کرتا رہتا ہے۔
تاثیر پیدا کرنے والامرنے کے بعد بھی اپنے نامۂ اعمال میں اپنے قاری کی نیکی بدی کے حوالے سے اضافہ کرتا ہے۔ جس نے جتنے زیادہ لوگوں کو نیک بنایا اُسے اُتنا ہی زیادہ اِنعام ملے گا۔
مصنّف کو اپنی گناہ ساز اور گناہ پروَر تصانیف سے توبہ کرنی چاہیے۔ اگر توبہ قبول ہو گئی تو اُسے نیک تصانیف کا شعور عطا ہو گا ،جس سے وہ ہر آنے والے دَور سے دُعائیں حاصل کرے گا۔ آنے والے زمانوں کی دُعائیں یا بد دُعائیں جانے والے انسان کے لیے بڑی تاثیر رکھتی ہیں۔
نیّت کا گناہ، نیّت کی توبہ سے معاف ہو جاتا ہے۔عمل کا گناہ،عمل کی توبہ سے دُور ہوتا ہے۔ تحریر کا گناہ،تحریر کی توبہ سے ختم ہو جاتا ہے۔جس ڈگری کا گناہ ہو گا،اُسی ڈگری کی توبہ چاہیے۔ صاحبِ تاثیر کی تحریر اُس کے نامۂ اعمال میں رکھی جائے گی۔ جس اِنسان کو جو دولت عطا ہوتی ہو،اُس کی باز پُرس ہو گی۔ الفاظ کی دولت حاصل کرنے والوں سے ضرور اِس دولت کے استعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اگر نصیب یاوری کرے تو اپنی تحریر کو اپنی نیکیوں میں اضافے کے لیے استعمال کر لیا جائے۔ گذشتہ پر توبہ کا مدّعا ہی یہی ہے کہ آئندہ اپنے الفاظ کے استعمال کو اپنے اعمال کے آئینے میں دیکھا جائے۔
اِنسان کا پیشہ سیاست ہو یا وکالت،تعلیم ہو یا کاروبار،الفاظ کا استعمال،عمل کے میزان میں ضرور دیکھا جائے گا۔